پانی پت،8جنوری (آئی این ایس انڈیا) سمالکھا میں ساڑھے 13 سالہ گونگا بچی کے ساتھ 34 سال کے پڑوسی نے ہی جنسی زیادتی کو انجام دیا تھا،پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا ہے۔مزید چار نوجوانوں پر شبہ ہے۔ جس کے نمونے ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے بھیجے گئے ہیں۔ پولیس جمعہ کو ملزم کو عدالت میں پیش کرے گی اور دو روزہ ریمانڈ کا مطالبہ کرے گی۔
خیال رہے کہ سمالکھاپولیس اسٹیشن کے علاقہ میں 3 جنوری کو ایک گونگی بچی کے ساتھ زیادتی کی گئی، متأثرہ لڑکی بول نہیں سکتی، لیکن سماعت کی قوت کچھ حدتک بحال ہے، متأثرہ لڑکی نے یہ واقعہ اشاروں سے اپنی والدہ کو بتایا تھا۔ جس کے بعد ماں نے پولیس میں شکایت کی۔ اس سلسلے میں، اے ایس پی پوجا وششٹھ نے جمعہ کے روز پریس کانفرنس میں بتایا کہ متأثرہ نے اشاروں سے دو نوجوانوں کی نشاندہی کی تھی۔ دونوں نوجوانوں سے پوچھ گچھ کی گئی، لیکن معاملہ واضح نہیں ہوسکا تھا۔
پولیس تفتیش کے ساتھ ساتھ، نوعمر نوجوان کو خصوصی ترجمان کے ساتھ بھی مشورہ کیا گیا تھا۔ پانی پت، کرنال اور سونی پت سے ترجمان متأثرہ لڑکی سے صلاح مشاورت جاری رکھے گا۔پولیس نے متاثرہ نوجوان کے پڑوس سے لاپتہ نوجوانوں کا پتہ لگانا شروع کردیاتھا، واقعے کے اگلے دن ایک نوجوان چار مکان دوررہنے والا غائب پایا گیا تھا، جب اس کے اہل خانہ سے نمبر پوچھا گیا تو انہوں نے کہاکہ وہ فون نہیں رکھتا ہے، جس کے بعد شبہ مزید گہرا ہوگیا۔ جمعرات کی شام کو جب ملزم کو گرفتار کرکے ان سے پوچھ گچھ کی گئی تو اس نے عصمت دری کا گناہ قبول کرلیا، ملزم کا نام”مندیپ“ ہے،اور یہ ملزم ایک بچے کا باپ بھی ہے۔ اب ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے کے بعد دو روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جائے گا۔
اے ایس پی نے بتایا کہ میڈیکل رپورٹ میں عصمت دری کی تصدیق ہوئی ہے۔اب کتنے لوگ اس حیوانیات میں شامل ہیں، اس کی وضاحت ہونا باقی ہے۔خیال رہے کہ پولیس کے مطابق درندہ ملزم مندیپ کار ڈرائیور ہے، وہ خاندان سمیت پہلے دہلی میں رہتا تھا، وہ مارپیٹ کے معاملے میں 10 دن جیل بھی رہ آیاہے۔